ہفتہ 12 ستمبر 2026 - 02:48
والدین کے ساتھ حسنِ سلوک اسلامی تعلیمات کا بنیادی تقاضا ہے: مولانا سید یاسین حسین عابدی

حوزہ/ مسجد امام علیؑ کانودر، گجرات میں نمازِ جمعہ کے خطبے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا سید یاسین حسین عابدی نے والدین کی عظمت، ان کے حقوق اور اولاد کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ قرآن مجید نے اللہ کی عبادت اور توحید کے حکم کے ساتھ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کی بھی خصوصی تاکید کی ہے، جس سے اسلامی تعلیمات میں والدین کے بلند مقام کا اندازہ ہوتا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کانودر، گجرات/ مسجد امام علیؑ کانودر، گجرات میں نمازِ جمعہ کے خطبے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا سید یاسین حسین عابدی نے والدین کی عظمت، ان کے حقوق اور اولاد کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ قرآن مجید نے اللہ کی عبادت اور توحید کے حکم کے ساتھ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کی بھی خصوصی تاکید کی ہے، جس سے اسلامی تعلیمات میں والدین کے بلند مقام کا اندازہ ہوتا ہے۔

مولانا سید یاسین عابدی نے سورۂ اسراء کی آیت 23 «وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا» کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے ساتھ والدین سے نیکی اور حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر توحید اور عبادت کے بیان کے ساتھ والدین کے ساتھ نیکی کی تاکید کی گئی ہے، جو اس امر کی واضح دلیل ہے کہ والدین کے حقوق اسلامی معاشرے میں غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے سورۂ بقرہ کی آیت 83، سورۂ نساء کی آیت 36، سورۂ انعام کی آیت 151 اور سورۂ اسراء کی آیت 23 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان آیات میں اللہ کی عبادت، شرک سے اجتناب اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کو ایک ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ ان قرآنی تعلیمات سے واضح ہوتا ہے کہ والدین کا احترام اور ان کے ساتھ نیکی محض ایک سماجی روایت نہیں بلکہ دینی فریضہ ہے۔

تعلیمی و مادی ترقی کے باوجود والدین کے احترام میں کمی

مولانا عابدی نے موجودہ معاشرتی صورتِ حال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج معاشرہ تعلیم اور مادی ترقی کے اعتبار سے آگے بڑھ رہا ہے، لیکن بعض خاندانوں میں والدین کے احترام، محبت اور ان کے ساتھ وقت گزارنے کا رجحان کمزور ہوتا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بعض نوجوان والدین کی بات سننے اور ان کی ضروریات کو سمجھنے کے بجائے موبائل فون اور دیگر مصروفیات میں زیادہ مشغول رہتے ہیں۔

انہوں نے امام جعفر صادقؑ سے منقول تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ والدین کے ساتھ احسان کا مفہوم یہ ہے کہ ان کے ساتھ اچھے انداز میں پیش آیا جائے اور انہیں اپنی ضرورت بیان کرنے کی زحمت نہ دی جائے، بلکہ ان کی ضروریات کو پہلے سے سمجھ کر انہیں پورا کرنے کی کوشش کی جائے۔

والد اولاد کی اصل اور زندگی کی بنیاد ہے

مولانا سید یاسین حسین عابدی نے امام زین العابدینؑ کے رسالۃ الحقوق میں والد کے حق سے متعلق بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امامؑ انسان کو متوجہ کرتے ہیں کہ والد اس کی اصل ہے اور اگر وہ نہ ہوتا تو اولاد کا وجود بھی نہ ہوتا۔ اس لیے انسان کو اپنی صلاحیت، کامیابی، صحت، تعلیم اور ترقی پر صرف اپنی محنت کا غرور نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس حقیقت کو بھی پیشِ نظر رکھنا چاہیے کہ اس کی زندگی اور تربیت کی بنیاد رکھنے میں والدین کا بنیادی کردار ہے۔

انہوں نے کہا کہ انسان زندگی میں چاہے کتنی ہی کامیابی حاصل کرلے، ڈاکٹر، انجینئر یا کسی اعلیٰ عہدے پر فائز ہوجائے، اسے اپنے والدین کی قربانیوں کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ اللہ کی نعمتوں پر شکر ادا کرنے کے ساتھ والدین کے احسانات کو تسلیم کرنا بھی ضروری ہے۔

والدین سے ادب و احترام کے ساتھ گفتگو کی جائے

مولانا عابدی نے سورۂ اسراء کی آیت «فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا» کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قرآن مجید نے والدین کو ’’اُف‘‘ تک کہنے اور انہیں جھڑکنے سے منع کیا ہے اور ان سے باعزت انداز میں گفتگو کرنے کا حکم دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب قرآن مجید والدین کے سامنے معمولی ناگواری کے اظہار سے بھی روکتا ہے تو ان کے ساتھ بلند آواز میں گفتگو کرنا، جواب دینا، ان کی بات کو نظر انداز کرنا یا انہیں حقیر سمجھنا اسلامی اخلاق کے سراسر منافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک والد اپنی اولاد کی پرورش اور بہتر مستقبل کے لیے زندگی بھر محنت کرتا ہے، اپنی خواہشات اور ضروریات کو محدود کرتا ہے اور اولاد کی ضروریات کو اپنی ترجیحات پر مقدم رکھتا ہے، لیکن بڑھاپے میں بعض اوقات اسی والد کو اپنی اولاد سے وقت اور توجہ کے لیے انتظار کرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں اولاد کی ذمہ داری ہے کہ وہ والدین کے بڑھاپے کو بوجھ نہیں بلکہ ان کی خدمت اور احسان کا موقع سمجھے۔

والدین کی رضا کی اہمیت

مولانا یاسین عابدی نے والدین کی رضا کی اہمیت بیان کرتے ہوئے امام جعفر صادقؑ سے منقول روایت کا حوالہ دیا کہ اللہ کی رضا والدین کی رضا میں اور اس کی ناراضی والدین کی ناراضی میں ہے۔ انہوں نے مؤمنین پر زور دیا کہ وہ والدین کی خوشی، ضروریات اور جذبات کا خیال رکھیں اور ان کے ساتھ محبت، احترام اور نرمی کا برتاؤ کریں۔

انہوں نے کہا کہ والدین کے حقوق ان کی وفات کے بعد بھی ختم نہیں ہوتے۔ اولاد کو چاہیے کہ ان کے لیے دعا کرے، ان کی طرف سے صدقہ دے، ان کے قرض ادا کرے، ان کی وصیت پر عمل کرے اور ان کے دوستوں اور عزیزوں کے ساتھ احترام کا معاملہ رکھے۔ اسی طرح قرآن خوانی اور ایصالِ ثواب کے ذریعے بھی مرحوم والدین کو یاد کیا جاسکتا ہے۔

زندہ والدین کی قدر اور مرحوم والدین کے لیے دعا کی تاکید

خطبے کے اختتام پر مولانا سید یاسین عابدی نے مؤمنین کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر والدین حیات ہیں تو ان کے ساتھ وقت گزاریں، ان کی خدمت کریں، ان کی ضروریات کو سمجھیں اور اگر کبھی ان کی دل آزاری ہوئی ہو تو ان سے معذرت کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر والد دنیا سے رخصت ہوچکے ہوں تو ان کے لیے نماز، صدقہ، قرآن خوانی اور دعا کا اہتمام کیا جائے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ والدین کی خدمت اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کو زندگی کے معمولات کا حصہ بنایا جائے، کیونکہ والدین کی قدر و احترام نہ صرف معاشرتی ذمہ داری بلکہ اسلامی تعلیمات کا اہم تقاضا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha